عنوان: چچا کرمو کی کہانی – مٹی کی محبت اور قربانی کا سفر
 |
| زندگی بدل دینے والی کہانی |
1960
– مٹی سے عشق کی ابتدا
چچا کرمو، اصل نام کرم دین، مگر گاؤں میں سب کے لیے بس "چچا کرمو" تھا۔ درمیانے قد، جھریوں سے بھرا چہرہ، اور آنکھوں میں ایک ان کہی کہانی۔ وہ زمین سے جتنا جُڑا ہوا تھا، شاید کوئی ماں بھی اپنے بچے سے اتنی محبت نہ کرتی ہو۔ اُس کے کھیت اُس کے دل کی دھڑکن تھے، اور بیلوں کے ساتھ ہل چلانا اُس کی عبادت۔
یہ وہ وقت تھا جب کھاد کا تصور عام نہ تھا، بیلوں کے سہارے زمین جوتی جاتی، اور بارشیں وقت پر ہوتیں تو سبزیاں، گندم، چاول، اور مکئی خوب پیدا ہوتے۔ مگر اگر بارشیں نہ ہوتیں تو بھوک مقدر بنتی۔ چچا کرمو نے بہت دفعہ اپنی روٹی اپنے بچوں میں بانٹی تھی، راتوں کو بھوکا سویا تھا، مگر پھر بھی زمین سے شکوہ نہ کیا۔
"مٹی کبھی دھوکہ نہیں دیتی، بیٹا۔ جو اس میں ڈالیں گے، وہی دے گی۔" یہ جملہ اُس کے بیٹے نذیر نے بچپن سے سنا تھا۔
1970
سبز انقلاب اور نئی امیدیں
پھر سبز انقلاب آیا۔ حکومت نے ہائی ییلڈ ورائٹی (HYV) بیج اور کھادیں متعارف کروائیں۔ گاؤں میں نئے طریقے اپنانے پر بحث ہونے لگی۔ نوجوان کسان جوش میں تھے، مگر چچا کرمو جیسے پرانے لوگ شک میں پڑ گئے۔
"یہ کھادیں زمین کو زرخیز بنائیں گی، چچا کرمو!" نذیر نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی۔
چچا نے بیٹے کی بات مان لی۔ اُس سال اُس نے پہلی بار کھاد کا استعمال کیا۔ جب گندم کی فصل نکلی، تو پہلی بار اُس کے کھیتوں میں سنہری خوشے جھوم رہے تھے۔ وہ خوش تھا، اُس کی زمین نے اُسے مایوس نہیں کیا تھا
۔
1980 – ترقی کا سفر اور نذیر کی محبت
نذیر جوان ہو چکا تھا، اور ساتھ ہی اُس کے دل میں محبت کے پھول بھی کھلنے لگے تھے۔ گاؤں کی سب سے خوبصورت لڑکی زینب اُس کے خوابوں کی شہزادی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، مگر مسئلہ زینب کے باپ کا غرور تھا۔
"میرے زینب کو وہی لے جا سکتا ہے، جو امیر ہو!" زینب کے باپ نے دو ٹوک کہہ دیا۔
نذیر کا دل ٹوٹ گیا، مگر چچا کرمو نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا:
"بیٹا، زمین سے وفادار رہو، سب کچھ مل جائے گا!"
نذیر نے کھیتی میں دل لگا لیا۔ مشینری، کھادیں، اور بہتر بیجوں نے اُس کی پیداوار بڑھا دی۔ اُس سال اُس نے پہلی بار زینب کے باپ کے گھر گندم کی بوری بھجوائی۔ اگلے دن زینب کے باپ نے اُس کے ہاتھ پر زینب کا ہاتھ رکھ دیا۔
1990
– زمین کی ناراضگی اور پہلی آزمائش
خوشی کے یہ دن زیادہ نہ رہے۔ زیادہ کھاد کے استعمال نے زمین کی زرخیزی کم کر دی تھی۔ پانی کی سطح نیچے جا رہی تھی۔ گاؤں میں کئی کسان دیوالیہ ہو رہے تھے۔ چچا کرمو کے کھیت بھی پہلے جیسے سبز نہ رہے۔
"اب کیا کریں، ابا؟" نذیر نے پریشان ہو کر پوچھا۔
چچا کرمو نے پہلی بار زمین کی مٹی کو مٹھی میں لے کر سونگھا اور افسردگی سے بولا:
"ہم نے زمین کو کچھ نہیں دیا، صرف لیا ہے۔ یہ ماں بھی ہے، مگر ماں بھی تنگ آ جائے تو سزا دیتی ہے!"
2000 – قرض، مشکلات اور پہلی شکست
پیداوار کم ہوتی جا رہی تھی، مگر کھاد اور بیج کے اخراجات بڑھ رہے تھے۔ نذیر نے زمین گروی رکھ کر قرض لیا، مگر اُس سال بارشیں بھی کم ہوئیں۔ جو زمین کبھی سونا اگاتی تھی، اب قرض میں ڈوب چکی تھی۔
بینک کے نوٹس آنے لگے، اور وہ دن بھی آیا جب زمین بکنے کا وقت آ گیا۔
چچا کرمو نے اپنی زمین کے آخری ٹکڑے کو چھوا اور روتے ہوئے بولا:
"یہ زمین میری ماں تھی، میں نے اُسے کھو دیا..."
2010 – زمین کا انتقام اور ایک اور صدمہ
زمین بیچنے کے بعد نذیر نے شہر میں مزدوری شروع کر دی۔ چچا کرمو گاؤں میں رہ گیا۔ وہ کھیتوں کے کنارے بیٹھ کر شامیں گزار دیتا، جیسے کوئی ماں اپنے بچھڑے بچے کا انتظار کر رہی ہو۔
پھر ایک دن خبر آئی – نذیر ایک عمارت کی تعمیر کے دوران گر کر چل بسا تھا۔
چچا کرمو کی آنکھوں میں دنیا ختم ہو گئی۔ اُس کی عمر بھر کی محنت، اُس کے خواب، اُس کا سہارا سب چھن چکا تھا۔ اُس رات اُس نے پہلی بار آسمان کی طرف دیکھا اور بولا:
"میرے اللہ، یہ کس گناہ کی سزا تھی؟"
2020 – واپسی کی امید
چچا کرمو اب بوڑھا ہو چکا تھا، مگر اُس کا پوتا عامر جوان ہو رہا تھا۔ عامر نے زراعت کی تعلیم حاصل کی تھی اور جانتا تھا کہ زمین کو بچانے کے لیے نامیاتی کھادیں اور جدید طریقے اپنانے ہوں گے۔
"دادا، میں زمین واپس خریدوں گا!" عامر نے عزم سے کہا۔
چچا کرمو نے کمزور آنکھوں سے عامر کو دیکھا، اُسے اپنا نذیر یاد آ گیا۔ اُس دن اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک روشنی تھی – امید کی روشنی۔
کچھ سال بعد، عامر نے گاؤں میں سب سے زیادہ پیداوار لی، مگر بغیر کیمیکل کھادوں کے۔ اُس کے کھیت پھر سبز ہو گئے۔ ایک دن چچا کرمو کو لے کر اُس نے اُسے وہی زمین دکھائی جو کبھی اُس کی تھی۔
چچا کرمو زمین پر جھکا، اُس کی مٹی کو ہاتھ میں لیا اور سونگھا۔ پھر مسکرا کر بولا:
"زمین نے ہمیں معاف کر دیا، بیٹا!"
ختم شد
شیخ جبیر
28-Feb-2025
Comments
Post a Comment